بالا[1]

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - چھوٹی عمر کا یا ننھا بچہ، شیر خوار بچہ، بالک، سولہ برس تک کا لڑکا۔ "اس باب میں بالا اور بوڑھا برابر ہے۔"      ( ١٩٢٣ء، عصائے پیری، ٩ ) ٢ - بیٹا بیٹی، اولاد (اکثر لڑکا وغیرہ کے ساتھ مستعمل) "یہ کہتی سو مرے بالے مرے نور نظر سو جا۔"      ( ١٩٢٩ء، آمنہ کا لال، ٤٩ ) ٣ - شادی کے بعد کی ایک رسم جس میں دلہن کے گھر والے دولھا کے گھر مٹھائی اور پھل وغیرہ بھیجتے ہیں۔ "وہاں بالے کی رسم تھی یعنی دلھن کے ہاں سے دولھا کے ہاں مٹھائی وغیرہ بھیجی گئی تھی۔"      ( ١٩٢٤ء، روزنامچۂ حسن نظامی، ٣٤١ ) ٤ - بالی سے بڑا کان میں پہننے کا حلقہ۔ "بجلی بالا تو بڑی شے ہے ذرا سی ناک کی کیل تو کسی نے کھوئی نہیں۔"      ( ١٩٠٠ء، خورشید بہو، ٢٥ ) ٥ - طنابوں کے سرے باندھنے کو شامیانے یا خیمے کی سرگاہ کے کنارے ملے ہوئے رسی کے پھندوں (یا حلقوں) میں سے ہر ایک پھندا۔ (اصطلاحات پیشہ وراں، 1:1) ٦ - وہ گیت جو بچے کی پیدائش میں گایا جاتا ہے۔ "پھلے تو بالا گایا گیا اور بچے کی نانی خالہ کو خوب گالیاں پڑیں جو کافی وزن دار تھیں۔"      ( ١٩٦٤ء، نورمشرق، ١٣٩ ) ٧ - گیہوں اور جو کا پودا جب تک مٹھی بھر کا رہے۔ (نوراللغات، 547:1) ١ - ناسمجھ، نادان، جس میں بچپنا ہو، بھولا، معصوم۔  ترے بالے مزاج نے ابھی کچھ نہ مزہ دیا      ( ١٩٢٧ء، سریلے بول، ٧٩ ) ٢ - طفلانہ، بچگانہ، بچوں کا سا، جیسے : سرکار منھ بالا۔ (فرہنگ آصفیہ، 355:1)

اشتقاق

ہندی زبان کا لفظ ہے۔ اصلی حالت میں ہی اردو میں ہندی سے ماخوذ ہے اور عربی رسم الخط میں مستعمل ہے۔ اردو میں بطور اسم اور گاہے بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ ١٥٦٤ء میں "حسن شوقی" کے دیوان میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - چھوٹی عمر کا یا ننھا بچہ، شیر خوار بچہ، بالک، سولہ برس تک کا لڑکا۔ "اس باب میں بالا اور بوڑھا برابر ہے۔"      ( ١٩٢٣ء، عصائے پیری، ٩ ) ٢ - بیٹا بیٹی، اولاد (اکثر لڑکا وغیرہ کے ساتھ مستعمل) "یہ کہتی سو مرے بالے مرے نور نظر سو جا۔"      ( ١٩٢٩ء، آمنہ کا لال، ٤٩ ) ٣ - شادی کے بعد کی ایک رسم جس میں دلہن کے گھر والے دولھا کے گھر مٹھائی اور پھل وغیرہ بھیجتے ہیں۔ "وہاں بالے کی رسم تھی یعنی دلھن کے ہاں سے دولھا کے ہاں مٹھائی وغیرہ بھیجی گئی تھی۔"      ( ١٩٢٤ء، روزنامچۂ حسن نظامی، ٣٤١ ) ٤ - بالی سے بڑا کان میں پہننے کا حلقہ۔ "بجلی بالا تو بڑی شے ہے ذرا سی ناک کی کیل تو کسی نے کھوئی نہیں۔"      ( ١٩٠٠ء، خورشید بہو، ٢٥ ) ٦ - وہ گیت جو بچے کی پیدائش میں گایا جاتا ہے۔ "پھلے تو بالا گایا گیا اور بچے کی نانی خالہ کو خوب گالیاں پڑیں جو کافی وزن دار تھیں۔"      ( ١٩٦٤ء، نورمشرق، ١٣٩ )

جنس: مذکر